HomeWorld PakistanwapWho was Göktuğ Alp

Who was Göktuğ Alp

Who was Göktuğ Alp

گوگتوگ الپ کون تھے ?

کورولش عثمان کی ابتداء میں جب کونگار نامی منگول کمانڈر کی اینٹری ہوئی تو سارے ناظرین حیران پریشان رہ گئے کہ مہمت بوزداگ اتنے بڑے ایکٹر کو ایک ولن کے روپ میں لائے ہیں ۔ مگر جیسے جیسے کورولش کا سیزن ون فینالے کی جانب بڑھتا گیا۔ براک چیلک یعنی کونگار نے اپنی ادا کاری کا لوہا منوا لیا ۔ ناظرین اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے کہ واقعی مہمت بوزداگ نے اس کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے ۔ 

منگولوں نے اپنی حکومت کی بنیاد ہی لالچ اور ہوس میں رکھی تھی ۔وہ جس علاقے میں جاتے سارا مال لوٹ لیتے اور لوگوں کو قتل کر ڈالتے حتی کہ بوڑھے بچے کو بھی نہیں چھوڑتے تھے ۔ منگولوں نے جب بائئجو نویان کی سربراہی میں اناطولیہ پر حملہ کیا تو انہوں نے ترکوں کے تمام قبائل کو تہہ تیغ کر دیا ۔ ارترل عاری کا قبیلہ بھی اس حملے کی زد میں آیا ۔ 

مگر انہوں نے بہادری اور جوان مردی سے منگولوں کا مقابلہ کیا ۔ انہیں ترک قبائل میں کونور اور گوگتوگ الپ کا قبیلہ بھی شامل تھا ۔ منگولوں کے حملے میں ان کے ماں باپ دونوں شہید ہوگئے ۔ کونور الپ تو کسی طرح جان بچا کر نکل آئے اور ارترل غازی کے ہاں پناہ لی ۔مگر گوگتوگ کو منگولوں نے پکڑ لیا اور غلاموں کی منڈی میں بیچ دیا ۔ انہیں بالگائی نامی ایک منگول نے خریدا تھا ۔

اس نے گوگتوگ الپ کو مختلف حربوں کے ذریعے اپنا ہمنوا بنا لیا ۔ اور اس کا نام بدل کر کونگار رکھ دیا ۔  ناظرین کورولش میں کونگار کی اینٹری بطور ایک ماتحت سپہ سالار کے ہوئی ۔ جبکہ اس کا چیف کمانڈر بالگائی تھا ۔ منگولوں نے آتے ہی پہلے سوگوت کے بازار پر قبضہ کیا اور پھر وائی قبیلے پر دھاوا بول دیا ۔ وہاں پر انہوں نے عثمان غازی کے ساتھیوں کو قید کر لیا ۔ جن میں کونور الپ بھی شامل تھے ۔

انہوں نے جب کونگار کی گردن پر ایک ستارے کا نشان دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہی ان کا گمشدہ بھائی ہے ۔ انہوں نے اسے سمجھانے کی بے حد کوشش کی ۔اسے کہا کہ یہ ہمارا آبائی نشان ہے ۔ مگر کونگار نہ مانا ۔ مگر جب عثمان غازی نے اسے ایک رسید کا کر  دیکھائی جو کہ گوگتوگ کو غلاموں کے بازار سے خریدنے کی تھی تو کونگار کو ماننا ہی پڑا کہ وہ کونور الپ کا بھائی ہے ۔ اس کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا ۔ 

بالگائی کو پتا چلا تو اس نے ایک دھویں کے زریعے ان کے ذہن کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ۔ اور عثمان غازی کے لیے جال بچھا لیا ۔ جب کونگار نے عثمان غازی کے اوپر حملہ کیا تو اس کا بھائی کونور ان دونوں کے درمیان حائل ہوگیا ۔ یوں کونگار یا گوگتوگ نے اپنے ہی بھائی کو زخمی کر دیا ۔ کونور الپ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ بھائی کی شہادت نے کونگار کو واپس گوگتوگ بنا دیا ۔ اور وہ دھویں کے اثر سے نکل آیا ۔

اس نے عثمان غازی سے معافی مانگی ۔عثمان غازی جانتے تھے کہ اس میں گوگتوگ کا کوئی قصور نہیں ہے اس لیے انہوں نے اسے معاف کر دیا ۔ اور اسے اپنے قریبی سپاہیوں میں شامل کر لیا ۔ لیکن ناظرین کورولش میں دیکھائی جانی والی اس کہانی کو  اگر ہم تاریخی حوالوں میں تلاش کریں تو اس سے یہ ات واضح ہوتی ہے کہ گوگتوگ الپ ایک فرضی کردار ہے اور مہمت بوزداگ کے زہن کی اختراع ہے ۔

ہماری ریسرچ کے مطابق جن منگولوں نے اناطولیہ پر حملہ کیا تھا ان میں کمانڈر کونگار  کا نام کہیں زکر نہیں ہے ۔ اس کے علاؤہ پچھلے کچھ عرصے سے ایک بات سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مشہور ہے کہ عثمان غازی نے ایناگول قلعہ فتح کرنے کے لیے ترگت الپ اور گوگتوگ کو بھیجا تھا جنہوں نے پہلے سے قلعے میں گھس کر اس کی جاسوسی شروع کردی تھی ۔ لیکن اس بات کا بھی تاریخ میں کوئی ذکر نہیں بلکہ اناگول کی فتح صرف اور صرف نہیں

ترگت   الپ نے کی اور اس کے بعد اڑتیس برس وہ وہاں نے گورنر بھی رہے تھے ۔ گوگتوگ الپ والی بات صرف ایک شوشہ ہے ۔ اس کے علاؤہ گوگتوگ الپ کے فرضی کردار ہونے کی ایک مضبوط دلیل یہ بھی ہے کہ تاریخ میں جہاں کونور الپ کا نام ملتا ہے وہیں گوگتوگ کا نام ان کے بھائی حیثیت سے زکر ہونا چاہیے تھا جو کہ نہیں  ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گوگتوگ الپ کا کردار صرف ترگت الپ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ڈالا گیا ہے ۔

  اور ہوسکتا ہے کہ جب تیسرے سیزن میں ترگت الپ آ جائے تو اس کردار کو ختم کر دیا جائے ۔لیکن جہاں ناظرین ایک طرف فرضی کردار کو ناپسند کرتے ہیں وہیں ان کے ڈرامے سے جانے پر افسردہ بھی ہوجاتے ہیں ۔ یہی حال گوگتوگ الپ کے بارے میں بھی ہے ان کا کردار اس حد تک رنگ جما چکا ہے کہ اب ناظرین انہیں اس ڈرامہ سے علیحدہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ۔ 

یقینا اس بات کا کریڈٹ براک چیلک کو جاتا ہے جنہوں نے اس قدر عمدہ اداکارہ کرکے ایک فرضی کردار میں حقیقت کے رنگ بھر دئیے ۔ براک چیلک اکیس جولائی انیس سو بانوے کو استنبول میں پیدا ہوئے ۔ انتیس سالا براک ایک ماڈل اور ایکٹر ہیں ۔ اکیس جولائی ان کی سالگرہ کا دن ہے ۔ یہ الفاظ ان کی اداکارہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پیش کئے جارہے ہیں ۔ دو ہزار تیرہ میں انہوں بیسٹ ماڈل آف ترکی کا ایوارڈ حاصل کیا ۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے ایکٹنگ کے کریئر کا آغاز مشہور ترک سیریل “کارگل میں سردار نامی کردار سے کیا ۔ پھر دو ہزار سترہ میں فلم دیلی ایشق میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پھر معروف ترک ڈرامے سوز میں بھی ایک کردار ادا کیا ۔ اور بہترین اداکارہ پر کئی ایوارڈ اپنے نام کئے ۔ دو ہزار انیس میں بیسٹ ماڈل آف دی ورڈ کا ایوارڈ اپنے نام کیا ۔ پھر اسی سال کے آخر میں کورولش شروع ہوگیا اور برااک کی اداکارہ کے جوہر ایک بار پھر نظر آنے لگے ۔ 

یاد رہے کہ کورولش عثمان میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار کا نام بھی براک ہے اور دونوں ہی ترکی میں یکساں شہرت رکھتے ہیں ۔ اگر آپ عثمان غازی کے دوسرے الپس یعنی بوران الپ اور سالتوق الپ کی داستان حیات جاننا چاہتے ہیں تو یہاں اور یہاں کلک کریں۔  اور چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔

Read More:: Who was Göktuğ Alp

Ayesha
Ayesha
I am here! providing you latest News| Technology News |Trending Latest News Updates
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

Latest Episodes

Latest