In one week, 11% of Omicron cases were “still at risk.”

Omicron cases were “still at risk.”

The World Health Organization (WHO) has said that the risk of corona variant Omi Kroon is still “very high”.
According to the French news agency AFP, the World Health Organization has warned of the danger after an 11% increase in the number of Omicron cases worldwide. The World Health Organization (WHO) said in a weekly pandemic update that the new variant of Corona is spreading rapidly in many countries, including those that have successfully overcome the previous Delta virus. Was Omicron cases were “still at risk.”

According to the UN Health Agency, “the risks associated with Omicron are still very high.” The report further states that it is clear from the continuous results that the Omi Kroon variant spreads faster than the Delta and doubles in two to three days. The United Kingdom and the United States are among the countries where cases of this variant are most prevalent.

According to the report, “it is possible that the weakening of the immune system and internal migration are the main reasons for its rapid growth.” The World Health Organization (WHO) has also noted that the number of cases has dropped in South Africa, Omicron cases were where the first case of Omi Kroon was reported on November 24.

Initial data showed that rates were higher in the UK, South Africa and Denmark, but hospital admissions were lower for this variant than for the Delta. However, more data needs to be collected regarding variant severity, medication, oxygen, ventilator and mortality. It is also important to know the extent to which a previous infection or vaccination affects the variant.

Omicron cases were The World Health Organization (WHO) says “corticosteroids and interleukin six receptor blockers are likely to be effective for severe patients.” According to preliminary data, monoclonal antibodies made from white blood cells may be less effective in neutralizing omega krone in certain conditions.

Omicron cases were The agency said there has been a gradual increase in corona cases since October, with an 11 percent increase in new cases last week. However, the death rate has dropped by 4%. Most cases of the new variant occurred in the United Kingdom, the United States, France and Italy.

Read More::  What will be the new trends of 2022 in Pakistan and the world?

ایک ہفتے میں اومی کرون کیسز میں 11 فیصد اضافہ ’خطرہ اب بھی بہت زیادہ ہے

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا کے ویریئنٹ اومی کرون کا خطرہ اب بھی ’بہت زیادہ‘ ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دنیا بھر میں اومی کرون کے کیسز میں 11 فیصد اضافے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے وبا کے حوالے سے ہفتہ وار اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ کورونا کا یہ نیا ویریئنٹ کئی ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے جن میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے پچھلے ڈیلٹا وائرس پر کامیابی سے قابو پا لیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ہیلتھ ایجنسی کے مطابق ’اومی کرون سے جڑے خطرات اب بھی بہت زیادہ ہیں۔‘رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مسلسل سامنے آنے والے نتائج سے عیاں ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ ڈیلٹا کے مقابلے میں تیزی سے پھیلتا ہے اور دو سے تین دن میں دو گنا ہو جاتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں اس ویریئنٹ کے کیسز بہت زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ’امکان یہ ہے کہ مدافعتی سسٹم میں کمی اور اندررونی طور پر منتقلی اس کے تیزی سے بڑھنے کی بنیادی وجہ ہے۔‘علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت نے اس امر کی نشاندہی بھی کی ہے کہ جنوبی افریقہ میں کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے جہاں 24 نومبر کو اومی کرون کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔

ابتدائی طور پر سامنے آنے والے ڈیٹا کے مطابق برطانیہ، جنوبی افریقہ اور ڈنمارک میں اس کی شرح بہت زیادہ رہی تاہم ڈیلٹا کے مقابلے میں اس ویریئنٹ کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح کم ہے۔تاہم ویریئنٹ کی شدت، ادویات، آکسیجن، وینٹی لیٹر اور موت کے حوالے سے مزید ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پچھلی انفیکشن یا ویکسینیشن ویریئنٹ پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ’امکان یہی ہے کہ کورٹیکو سٹیرائڈز اور انٹرلیوکن سکس ریسپٹر بلاکرز شدید مریضوں کے لیے موثر رہیں گے۔

ڈیٹا کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ سفید خون کے خلیات سے بننے والی مونوکلونل اینٹی باڈیز کچھ مخصوص حالتوں میں اومی کرون کو بے اثر کرنے میں کم موثر ہو سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے اکتوبر کے بعد سے کورونا کیسز میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے نئے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اموات کی شرح میں چار فیصد کمی آئی ہے۔ نئے ویریئنٹ کے سب سے زیادہ کیسز برطانیہ، امریکہ، فرانس اور اٹلی میں سامنے آئے۔

Author: Ayesha KhanI am here! providing you latest News| Technology News |Trending Latest News Updates

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *